اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
سعودیوں نے اپنے سرکاری بیان میں قطر پر "دہشت گردی کی سرپرستی" کا الزام لگایا لیکن کیا واقعی دہشت گردی کی سرپرستی ہی سبب ہے؟ کیا سعودی دہشت گردی کے سرپرست نہیں ہیں؟
۔۔۔
کیا اگر قطر کا نوجوان امیر جانتا کہ سعودی اس کا زمینی، فضائی اور بحری مقاطعہ کریں گے، 5 مئی کو سعودی عرب پر تنقید اور اسلامی جمہوریہ ایران کی تعریف کی جرأت کرتا؟
۔۔۔
سعودی عرب نے 5 جون کو قطر کے ساتھ سفارتی اور قونصل روابط منقطع کرلئے اور اس ملک کے ساتھ تمام زمینی، بحری اور فضائی راستے بند کردیئے۔
جو اسباب آل سعود نے بیان کئے کچھ یوں ہیں:
1۔ قطر گذشتہ برسوں سے خفیہ اور اعلانیہ طور پر سعودی سلامتی کے خلاف سرگرم عمل رہا ہے اور سعودی عرب کے اندر بغاوت کرانے کی کوشش کرتا ےہا ہے۔
2۔ دہشت گردوں ٹولوں کو پناہ دینا جس کا مقصد علاقے کو غیر مستحکم کرنا تھا جیسے اخوان المسلمین، داعش اور القاعدہ۔
3۔ اپنے ذرائع کے توسط سے اخوان، داعش اور القاعدہ کی زبان کی ترویج تسلسل کے ساتھ۔
4۔ سعودی عرب کے اندر صوبہ قطیف اور بحرین میں مبینہ ایران کے حمایت یافتہ گروہوں، کی حمایت۔
5۔ ان جماعتوں اور انتہاپسندوں کی مالی پشت پناہی جو سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
6۔ سعودی عرب اور علاقے میں فتنہ انگيزی کے لئے ذرائع ابلاغ کا استعمال [یاد رہے کہ قطر اور سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ مشترکہ طور پر گذشتہ 7 برسوں سے مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں فتنہ انگيزیوں کو ہوا دیتے رہے ہیں اور ان کے اہداف و مقاصد مشترکہ تھے]
7۔ یمن میں حوثی باغیوں!!! کی حمایت حتی کہ اس ملک کے خلاف لڑنے کے لئے اتحاد کی تشکیل کے بعد بھی۔۔۔ [یاد رہے کہ قطر کے سپاہی یمن میں سعودیوں کے ساتھ حوثی انقلابیوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں]۔
8۔ یہ بیان بحرین کے سرکاری بیان کے ساتھ بیک وقت جاری ہوا جس کو دہشت گردانہ حملوں کا سامنا ہے اور ان دہشت گردانہ حملوں کو قطر کی حمایت حاصل ہے۔
۔۔۔۔۔۔
سعودی بیان کے دیگر نکات:
٭ سعودی عرب نے 1995 سے اب تک قطر کو معاہدوں پر عمل درآمد کرنے کی ترغیب دلائی ہے لیکن قطری بین الاقوامی معاہدوں کو پامال کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔
٭ سعودی شہری قطر نہیں جاسکتے، وہاں قیام نہیں کرسکتے، اس ملک سے گذر کر کہیں اور نہیں جاسکتے، قطر میں مقیم سعودی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 14 دنوں میں واپس آنا پڑے گا۔
٭ قطری باشندے سلامتی کے انتظامات کے باعث سعودی عرب کا سفر نہيں کرسکتے، سعودی عرب کو ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال نہیں کرسکتے ہور سعودی عرب میں مقیم قطری باشندے زیادہ سے زیادہ 14 دنوں کے دوران واپس چلے جائیں۔
٭ قطر نے اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائی ہیں اور سعودی نے عرصے سے صبر کا دامن تھامے رکھا ہے، لیکن ہم قطری عوام کو امت عربی کا عضو سمجھتے ہیں اور قطر کے حجاج کا خیر مقدم کرتے ہیں!
مضحکہ خیز اور افسوسناک
جو بیان ہوا یہ قطر کے خلاف سعودیوں کا رسمی لب و لہجہ ہے، مختصر یہ سعودیوں نے رسمی طور پر قطر پر دہشت گردی کی سرپرستی، داعش اور القاعدہ کی حمایت، انہیں پناہ دینے اور علاقے میں ان کی تعلیمات کی ترویج کا الزام لگایا۔ حالانکہ سعودی عرب وہ حکومت ہے جو اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے والی حزب اللہ لبنان کو دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے، اور خود دنیا بھر میں دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے، اب جبکہ اسے کھربوں ڈالر امریکہ کے دامن میں ڈالنے کے بعد اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے، قطر کو داعش اور القاعدہ کے حامی کے طور متعارف کرارہی ہے، آخر کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ جو ریاض آیا تو سعودی دنیا کو اپنی گود میں دیکھنے لگے اور اپنے آپ کو دنیا کے بادشاہ سمجھنے لگے اور ایران کو دشمن قرار دیا اور پھر قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا تو قطر کا نوجوان امیر کافی آزردہ خاطر ہوا تھا چنانچہ وہ دوحہ پلٹ آیا تو حزب اللہ اور حماس کو مزاحمت تنظیمیں قرار دیا اور ایران کو علاقے کا اہم ملک قرار دیا اور بعض دوسروں [یعنی سعودیوں] کو ـ جو اسلام سے انتہاپسندانہ تصور لئے ہوئے ہیں ـ دنیا بھر میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے فروغ کا ملزم قرار دیا۔
مضحکہ خیز اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سعودی علاقے میں دہشت گرد ٹولوں کے حامی ہیں، اور اب وہ اپنے سیاسی رقیب کو اس گناہ کا ملزم ٹہرا رہے ہیں جن کا وہ خود ببانگ دہل ارتکاب کررہے ہیں۔ حزب اللہ کو بھی، ایران کو اور اب قطر کو بھی دہشت گردی کی سرپرستی یا ترویج کا ملزم ٹہرا رہے ہیں اور اب تو انھوں نے قطر کے ساتھ بھی اپنے سفارتی تعلقات ختم کرلیئے ہیں۔
سعودیوں کی نظر میں اہم بات یہ نہیں ہے کہ یہ الزامات قطر یا خطے کے عوام کے لئے مضحک ہوں، اہم اور افسوسناک امر یہ ہے کہ سعودیوں نے کئی سو ارب ڈالر دے کر ٹرمپ کی حمایت خرید لی، ان ہی نے 2008 میں برطانیہ کو دھمکی دی کہ اگر وہ لندن ـ ریاض کے ہتھیاروں کے سودوں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں تفتیش کا سلسلہ بند نہ کرے تو لندن میں دہشت گردانہ حملے زیادہ آسان ہوجائیں گے!!! گویا سعودی کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کرتے۔۔۔ لیکن کس کے سہارے؟ امریکہ اور اسرائیل کے سہارے؟
اختلاف کی جڑ کہاں ہے؟
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جو کچھ رونما ہورہا ہے ابو ظہبی کے ولی عہد اور اماراتی فوج کے نائب کمانڈر محمد بن زاید اور سعودی نائب ولیعہد اور وزیر دفاع [یا سعودی عرب کے بےتاج بادشاہ] محمد بن سلمان کی ساز باز کا نتیجہ ہے۔ بہت سے ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن زاید محمد بن سلمان کی پشت پناہی کررہا ہے تا کہ وہ سعودی تخت و تاج پر قابض ہوسکے۔
ایک عمانی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کل ہی محمد بن زاید نے مسقط کا خفیہ دورہ کیا اور سلطان قابوس سے ملاقات کی اور سلطان سے کہا کہ قطر پر دباؤ بڑھانے میں ہاتھ بڑھائے۔ تاہم مسقط نے یہ درخواست مسترد کی ہے لیکن کہا ہے کہ اگر وہ مسئلے کو بات چیت سے حل کرنا چاہیں تو عمان ثالثی کرنے کے لئے تیار ہے۔
اس نئے کھیل کے بازیگر تین نوجوان شہزادے ہیں: 31 سالہ بن سلمان، 36 سالہ تمیم بن حمد؛ لیکن یہ پوری کہانی نہیں ہے۔
اس قصے کی کئی جڑیں ہیں اور اس کی اصل جڑ اسرائیل میں پیوست ہے؛ اس لحاظ سے نہیں کہ ہم جو کہہ رہے ہیں کہ مردہ باد اسرائیل تو اسرائیل تمام مسائل میں اصل قصور وار ہے، بلکہ اس لحاظ سے کہ دباؤ کی اصل جڑ واقعی اسرائیل میں ہے۔ یہ صرف راقم کا نعرہ نہیں ہے بلکہ دوحہ میں اسرائیل کے اقتصادی دفتر میں اسرائیل کے سابق نمائندے "ایلی آویدار" نے آج ریڈیو اسرائیل کو بتا ہے کہ یہ اقدامات در حقیقت ٹرمپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہورہے ہیں۔
آویدار کا کہنا تھا قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنا بارک اوباما کے ورثے سے خلاصی کے لئے ٹرمپ کے نقطہ نظر کے نفاذ کے لئے ہے۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ قطر کا نام معتدل عرب ممالک کی فہرست میں مندرج ہے چنانچہ اخوان المسلمین اور ترکی کے ساتھ اس کے قریبی دوستانہ تعلقات ناقابل قبول ہیں۔
قطر میں اخوان المسلمین کی موجودگی با سب سے بڑا مظہر، دوحہ میں حماس کے راہنماؤں کی موجودگی ہے۔ ایک خبر گذشتہ دو دنوں کے دوران ذرا خفیہ رہی، وہ یہ کہ قطر نے حماس کے بعض راہنماؤں سے کہا تھا کہ وہ قطر سے چلے جائیں۔ بعض سفارتی ذرائع نے المیادین نیوز چینل کو بتایا تھا کہ قطر نے بیرونی دباؤ کے تحت یہ پیغام حماس کے قائدین کو پہنچایا تھا۔ لیکن سعودیوں کے آج کے فیصلے نے واضح کیا کہ بحران کے حل کے لئے ہونے والی تمام تر کوششیں اور ثالثیاں ناکام ہوچکی ہیں۔
اب یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ حماس کے وہ راہنما کون تھے جنہیں نکلنے کا حکم دیا گیا تھا؟
کہا جاتا ہے کہ یا تو وہ، حماس کے وہ راہنما تھے جنہوں نے مغربی کنارے میں حماس کو تقویت پہنچائی تھی یا پھر مغربی کنارے اور غزہ کے درمیان غزہ کے رابطین تھے۔ دباؤ کی جڑ یہ ہے کہ اسرائیل نے ٹرمپ سے تقاضا کیا ہے کہ ریاض کے دورے کے دوران اس مسئلے کو ـ اور اس سے بڑے مسئلے کو جس کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ہے ـ سعودی ـ قطری حکمرانوں تک پہنچا دے؛ یہیں سے امیر قطر کو کہے گئے ٹرمپ کے جملے کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے کہ "قطر کو چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں زیادہ تعاون کرے"۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو کے تجزیہ نگار "جیک حوک" نے کہا ہے کہ مسئلے کے بارے میں آویدار کا تبصرہ مختلف معانی کا حامل ہے جن کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ اسی بنا پر اسرائیلی وزیر اطلاعات "اسرائیل کاتص" نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ "نئی حقیقت" اور "بہت کٹھن" ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں نے سعودی اقدام کو اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا ہے، ایسی جنگ کا اعلان، جس کا آغاز ٹرمپ کے دورہ ریاض سے ہوچکا ہے اور عرب حکمرانوں کے ٹرمپ کے ساتھ اجلاس کے موقع پر سعودی عرب، مصر اور امارات نے قطر کو پیشکش کی ہے کہ چونکہ مقبوضہ فلسطین میں اسلامی مزاحمت تنظیموں اور حماس کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں لہذا اپنے ملک کو فلسطینیوں کا متبادل وطن قرار دے یا پھر اس سلسلے میں پیشرو ملک کا کردار ادا کرے۔ لیکن قطر نے ان کی پیشکش کو مسترد کردیا اور اب اختلافات اس مرحلے پر پہنچے ہیں، کہ آج دکھائی رے رہے ہیں اور اب ٹرمپ نے اسرائیل کے حکمنامے کے مطابق، سعودی عرب، مصر اور امارات کو ہری بتی دکھا دی ہے کہ قطر کو سزا دیں۔
ایک جڑ اور، اماراتی سفیر کے ایمیل آئی ڈی کا ہیک ہونا
یہ بھی ایک اہم بات ہے جس سے غفلت کرنا درست نہيں ہے کہ امریکہ میں متحدہ عرب امارات کا ایمیل آئی ڈی کو ہیک [Hack] کیا گیا۔ اماراتیوں کو جان لینا چاہئے کہ اگر وہ قطریوں کے ایمیل آئی ڈیز کو ہیک کرسکتے ہیں تو ان کے اپنے ایمیل آئي ڈیز بھی ہیک ہوسکتے ہیں۔
قطر ـ سعودی تناؤ میں شدت آنے کے بعد، بظاہر ایک فرد یا کچھ افراد نے نہایت دانشمندانہ انداز سے جوابی حملہ کرکے امریکہ میں اماراتی سفیر کے ایمیل آئی ڈی کو ہیک کرلیا جس سے کافی ساری مفید دستاویزات قطریوں کے ہاتھ لگیں جنہوں نے امارات کو فکرمند کردیا اور سعودی عرب کو بھی۔ یہ دستاویز بظاہر اس قدر اہم ہیں کہ اس کے لئے سعودیوں اور اماراتیوں کو بڑی قیمت ادا کرتے ہوئے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنا پڑے اور سفارتی تعلقات کا خاتمہ درحقیقت حفظ ما تقدم کے لئے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قطر ان دستاویزات کو طشت از بام کرکے ذرائع ابلاغ پر شائع کر دے! اور ان ممالک کے لئے بہت زیادہ خطرناک قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔
ایک سعودی قلمکار "شمس الدین نقاز" کا کہنا ہے کہ امریکہ جدید مشرق وسطی کے قیام کی کوشش کررہا ہے اور اس میں امارات کا کردار بہت اہم اور تباہ کن ہے اور اس حقیقت کے افشاء نے سعودیوں کو بھی اور اماراتیوں کو بھی شدید فکرمند کردیا ہے۔
بہر حال لگتا ہے کہ جو کچھ سعودی ـ قطر اختلافات سے اب تک سامنے آیا ہے یہ صرف ایک برفیلے پہاڑ کی چوٹی ہوسکتی ہے، ایک علاقائی منصوبے کے پہاڑ کی چوٹی جس کی جڑیں امریکہ اور اسرائیل میں پیوست ہیں اور اس کے قلابے ریاض، دوحہ اور ابوظہبی سے ملے ہوئے ہیں۔
ریاض کی مسلسل خطائیں
جس طرح حالیہ چھبیس مہینوں کے عرصے سے نمایاں ہوا ہے کہ یمن پر سعودی یلغار ایک خطا تھی اور ہے، اور یہ ملک یمن کو اپنا مطیع بنانے میں ناکام رہا اور یمن پہلے سے کہیں زیادہ مزاحمت محاذ کے قریب ہوگیا، تجربہ بتاتا ہے کہ سعودی عرب بحرین کے سوا کسی بھی عرب ملک کو مطیع مہمل نہيں بنا سکتا اور قطر ایران کی طرف مائل ہوجائے گا مگر یہ کہ امریکہ اور قطر کا منصوبہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہو جو دکھائی دے رہا ہے، اور ہم بھی تصور کرتے ہیں اور سعودی سرکاری اخبار "الریاض" نے بھی چند روز قبل لکھا کہ قطر میں ایک فوجی بغاوت کی ضرورت ہے۔ چنانچہ یہ امکان سنجیدگی سے پایا جاتا ہے کہ ایک عسکری اقدام اور ایک فوجی بغاوت اگلے ایام میں واشنگٹن اور ریاض کے پیش نظر ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادداشت از: وحید صمدی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰